Skip to main content

Darul Huda

Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-29

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 29

جنت کا راستہ، ابوابِ خیر، ارکانِ اسلام اور حفظِ لسان (زبان کی حفاظت) کا بیان

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ. قَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ». ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ». ثُمَّ تَلَا: ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ حَتَّى بَلَغَ: ﴿يَعْمَلُونَ﴾. ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ». ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِك كُلِّهِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ وَقَالَ: «كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا». قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ – أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ – إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟»

(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بہت عظیم بات پوچھی ہے، لیکن جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اس کے لیے یہ آسان ہے: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔

پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے آخری حصے میں آدمی کی نماز“۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں...“ یہاں تک کہ ”...جو وہ عمل کرتے تھے“۔

پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس دین کے سر، اس کے ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: ضرور، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اس دین کا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی بلند ترین چوٹی جہاد ہے“۔

پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان سب چیزوں کی بنیاد نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: ضرور، اے اللہ کے رسول! چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے قابو میں رکھو“۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا ہماری باتوں پر بھی ہماری گرفت ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! تمہاری ماں تمہیں گم پائے، لوگوں کو ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل (یعنی زبان کے گناہ) ہی تو ہے“۔ [جامع الترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    سوال اور تعلیم کا طریقہ (معلم و متعلم کا کردار):
    • مفید سوال کی اہمیت: طالب علم کو ہمیشہ با مقصد اور عملی فائدہ دینے والے سوالات پوچھنے چاہئیں ۔
    • معلم کا مؤثر انداز: استاد کو چاہیے کہ اچھے سوال پر طالب علم کی حوصلہ افزائی کرے اور تشویق، تجسس، عملی اشارے اور سوالیہ انداز جیسے تربیتی اسالیب اپنائے ۔
    • اضافی معلومات دینا: استاد اگر مناسب سمجھے تو اصل سوال کے جواب کے ساتھ مزید مفید رہنمائی بھی فراہم کر سکتا ہے ۔
  • ۲
    توفیقِ الہٰی اور اعمال کی بنیاد:
    • توفیقِ الہٰی: انسان کو نیکی کی توفیق صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے، اس لیے ہمیشہ اللہ سے رجوع اور دعا کرنی چاہیے ۔
    • ایمان اور اعمال: اعمال ایمان کا بنیادی حصہ ہیں، اور اسلام کے ارکان ہی جنت میں داخلے اور جہنم سے نجات کا اصل ذریعہ ہیں ۔
    • توحید (شہادتین): صرف ایک اللہ کی خالص عبادت کرنا تمام عبادات کی اصل اور بنیاد ہے ۔
  • ۳
    خیر کے دروازے اور نفل عبادات:
    • روزہ: انسان کے لیے گناہوں اور حرام کاموں سے بچاؤ کی ڈھال ہے ۔
    • صدقہ: گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، نیز یہ مال میں برکت اور پاکیزگی کا باعث ہے ۔
    • قیام اللیل (تہجد): رات کی نماز گناہوں کی تلافی اور اخلاص کا بہترین ذریعہ ہے ۔
    • پوشیدہ اعمال: روزے، صدقے اور تہجد جیسے خفیہ اعمال میں اخلاص اور قبولیت زیادہ ہوتی ہے ۔
  • ۴
    دینی فرائض اور جہاد کا مقام:
    • نماز: دین کا بنیادی ستون ہے ۔
    • جہاد: اسلام کی بلند ترین چوٹی اور اعلیٰ ترین مرتبے کی علامت ہے ۔
  • ۵
    زبان کی حفاظت اور اس کے خطرات:
    • تمام خیر کی بنیاد: تمام نیکیوں اور دین کی سلامتی کا دارومدار زبان کو قابو میں رکھنے پر ہے ۔
    • جہنم کا بڑا سبب: زبان کے گناہ اور بے احتیاطی انسان کو جہنم میں لے جانے کا بڑا ذریعہ بنتے ہیں ۔
    • خود احتسابی: مسلمان کو بولنے سے پہلے اپنے ہر لفظ کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ وہ نیکی کا باعث ہے یا برائی کا ۔
  • ۶
    دعوت و تربیت کے دیگر نکات:
    • استدلال بالقرآن: گفتگو کے دوران قرآنی آیات سے دلیل دینا اور سنت کو قرآن کی جامع تفسیر ماننا ۔
    • کردار سازی: شریعت کا مقصد محض گفتگو نہیں بلکہ انسان کے عمل اور کردار کی اصلاح ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-28

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 28

وصیتِ تقویٰ، اطاعتِ امیر، سنتِ نبوی و خلفائے راشدین پر تمسک اور ردِّ بدعت کا بیان

عَنْ أَبِي نَجِيحٍ العِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا. قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»۔

(رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ:

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا مؤثر وعظ فرمایا کہ اس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رخصت ہونے والے شخص کی نصیحت ہے، لہٰذا ہمیں کوئی وصیت فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے (تقویٰ اختیار کرنے)، اور (مسلمان) حاکم کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی امیر بنا دیا جائے۔ کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ ایسے وقت میں میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھام لینا، اسے اپنے داڑھ کے دانتوں سے پکڑ لینا، اور دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے“۔ [سنن ابی داود، سنن الترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    وعظ و نصیحت کا اثر اور طریقہ:
    نصیحت دل کے لیے نہایت مفید ہے ۔ عالم اور داعی کو چاہیے کہ وہ مؤثر اور خوبصورت الفاظ میں مخلصانہ وعظ کرے تاکہ سننے والوں کے دلوں میں خشیتِ الہٰی پیدا ہو اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوں ۔
  • ۲
    صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اسوہ:
    صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم دل کے نرم اور اللہ سے ڈرنے والے تھے ۔ وہ انتہائی توجہ اور غور سے وعظ سنتے تھے، موقع کی مناسبت سے نصیحت کی درخواست کرتے تھے اور اس پر عمل کی حرص رکھتے تھے ۔
  • ۳
    جامع ترین وصیت (تقویٰ):
    دین کی سب سے عظیم وصیت تقویٰ (اللہ کا خوف) ہے، کیونکہ یہی تمام نیکیوں کے بجا لانے اور تمام برائیوں سے بچنے کا بنیادی ذریعہ ہے ۔
  • ۴
    حکمرانوں کی اطاعت اور اتحادِ امت:
    شرعی حدود اور معروف کاموں میں مسلمان حکمران کی بات سننا اور اطاعت کرنا واجب ہے ۔ یہ اطاعت امت کے نظم و ضبط، دین کی حفاظت اور انتشار سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے ۔
  • ۵
    نبوی پیشگوئی اور معجزہ:
    نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آپ کے بعد امت میں شدید اختلافات اور فتنے رونما ہوں گے، اور تاریخ نے اس معجزانہ پیشگوئی کی مکمل تصدیق کی ۔
  • ۶
    فتنوں اور اختلافات کا حل:
    دورِ فتن اور اختلافات میں کامیابی کا واحد ذریعہ چار چیزیں ہیں: اللہ تعالیٰ کا تقویٰ، شرعی حدود میں امیر کی اطاعت، سنتِ نبوی کو مضبوطی سے تھامنا، اور دین میں نئی نئی باتیں (بدعات) ایجاد کرنے سے بچنا ۔
  • ۷
    خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقے کی حجیت:
    سنتِ نبوی کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین (ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم) کا طریقہ اور اجتہاد بھی امت کے لیے شرعی حجت اور معیارِ حق ہے ۔
  • ۸
    سنت سے شدید تمسک:
    سنت کو محض اپنانا ہی نہیں بلکہ انتہائی مضبوطی سے (داڑھوں سے) چمٹے رہنا لازم ہے، کیونکہ فتنوں سے نجات کسی شخص یا جماعت کی اندھی تقلید میں نہیں بلکہ صرف اور صرف سنتِ رسول ﷺ میں ہے ۔
  • ۹
    بدعت کی مذمت اور حقیقت:
    دین میں ہر نئی دینی ایجاد (بدعت) گمراہی ہے اور اس سے سختی سے بچنا واجب ہے ۔ دین میں کوئی بھی بدعت حقیقتاً "اچھی" نہیں ہو سکتی، کیونکہ خلفائے راشدین کے طریقے سے ہٹ کر ہر نئی دینی چیز مردود ہے ۔
  • ۱۰
    اہل السنۃ والجماعۃ کا جامع منہج:
    یہ حدیث اہل السنۃ والجماعۃ کا بنیادی منشور ہے، جو عقیدہ، عبادت، سیاست، اور اجتماعیت کے تمام اہم ترین اصولوں کو اپنے اندر جامع انداز میں سمیٹے ہوئے ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-27

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 27

نیکی اور گناہ کی بنیادی پہچان، حسنِ اخلاق اور باطنی ضمیر کی رہنمائی کا بیان

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ»۔ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: «جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «اسْتَفْتِ قَلْبَكَ، الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ، وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ»۔

(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِي مُسْنَدِهِ، وَالدَّارِمِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ)

ترجمہ:

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم یہ پسند نہ کرو کہ لوگ اس پر مطلع ہوں“۔ [صحیح مسلم]
اور حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نیکی کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے دل سے فتویٰ لو۔ نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور دل کو سکون حاصل ہو، جبکہ گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے، سینے میں بار بار تردد پیدا کرے، اگرچہ لوگ تمہیں اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتے رہیں“۔ [مسند احمد، سنن الدارمی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    نیکی اور گناہ کی بنیادی پہچان:
    • نیکی: وہ عمل ہے جس سے انسان کے دل اور نفس کو سکون، اطمینان اور خوشی حاصل ہو[cite: 15]۔ نیکی میں اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق (حسنِ اخلاق) دونوں شامل ہیں[cite: 15]۔
    • گناہ: وہ عمل ہے جو دل میں بے چینی، اضطراب اور کھٹک پیدا کرے، اور انسان کو یہ ڈر ہو کہ لوگوں کو اس کا علم نہ ہو جائے[cite: 15]۔
  • ۲
    حسنِ اخلاق کی اہمیت:
    • نیکی کا اہم ترین حصہ: اچھا اخلاق نیکی کا سب سے اہم حصہ اور جنت میں رسول اللہ ﷺ کی قربت کا ذریعہ ہے[cite: 15]۔
    • اعلیٰ اوصاف: اس میں لوگوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کے ساتھ ساتھ سچائی، صبر، معاف کرنا اور امانت داری جیسے تمام اعلیٰ اوصاف شامل ہیں[cite: 15]۔
    • دعوت کا ذریعہ: یہی حسنِ اخلاق دعوتِ دین اور معاشرتی اصلاح کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے[cite: 15]۔
  • ۳
    زندہ ضمیر اور باطنی پاکیزگی:
    • زندہ ضمیر: مؤمن کا ضمیر زندہ ہوتا ہے، اس لیے وہ گناہ پر بے چینی محسوس کرتا ہے، جبکہ مسلسل گناہ انسان کے دل کو سخت کر دیتے ہیں[cite: 15]۔
    • باطنی اصلاح: اسلام صرف ظاہری اعمال نہیں بلکہ باطنی پاکیزگی اور دل کے اطمینان کی بھی اصلاح کرتا ہے[cite: 15]۔
  • ۴
    تقویٰ اور مشتبہ امور سے بچاؤ:
    • حقیقی تقویٰ: جس بات میں دل میں شک یا کھٹک پیدا ہو، اس سے بچنا ہی حقیقی تقویٰ اور ورع ہے[cite: 15]۔
    • اخلاصِ نیت: ہر عمل اللہ کی رضا (اخلاص) کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے یا شہرت کے لیے[cite: 15]۔
  • ۵
    شرعی رہنمائی اور محاسبہ:
    • شرعی بصیرت: مسلمان کو صرف لوگوں کی دیکھا دیکھی کام کرنے کے بجائے اہلِ علم اور شریعت کی روشنی میں غور کرنا چاہیے[cite: 15]۔
    • "دل سے فتویٰ لو" کا اصول: اس کا حکم صرف وہاں ہے جہاں واضح شرعی حکم (نص) موجود نہ ہو[cite: 15]۔ اگر واضح حکم موجود ہو تو صرف دل کے احساس پر عمل نہیں کیا جائے گا[cite: 15]۔
    • خود احتسابی: انسان کو ہر وقت اپنا محاسبۂ نفس (خود احتسابی) کرتے رہنا چاہیے[cite: 15]۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-26

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 26

جسمانی جوڑوں کا شکرانہ، صدقے کے عملی ذرائع اور خدمتِ خلق کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ، تَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ، فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَبِكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ»۔

(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انسان کے جسم کے ہر جوڑ پر ہر اس دن صدقہ لازم ہے جس دن سورج طلوع ہوتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی شخص کو اس کی سواری پر چڑھانے میں مدد دینا یا اس کا سامان اس پر رکھ دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم صدقہ ہے، اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے“۔ [صحیح البخاری وصحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور شکر کا طریقہ:
    • جسم کے ہر جوڑ پر شکر: انسانی جسم کا ہر جوڑ اللہ کی عظیم نعمت ہے ۔ اس نعمت کا حقیقی شکر یہ ہے کہ انسان اپنے اعضا اور تمام نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری میں استعمال کرے ۔
    • خود کے وجود میں غور و فکر: اپنے نفس اور جسمانی ساخت میں غور کرنا اہلِ ایمان کی نشانی ہے، جس سے اللہ کی عظمت کا احساس اور شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
  • ۲
    صدقے کا وسیع اور جامع مفہوم:
    • مالی تعاون سے آگے: اسلام میں صدقہ صرف پیسہ دینے کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ عمل جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے یا تکلیف دور کرے، وہ صدقہ ہے ۔
    • صدقے کی چند اہم صورتیں:
    - زبان کا صدقہ: سلام کرنا، ذکر و تلاوت، اصلاحی نصیحت اور دل جوئی یعنی ”کلمہِ طیبہ“ (ہر اچھی اور پاکیزہ بات) صدقہ ہے ۔
    - جسمانی و عملی خدمت: کسی کی سواری یا سامان اٹھانے میں مدد کرنا اور لوگوں کے درمیان انصاف و صلح کرانا ۔
    - معاشرتی ذمہ داری: راستے سے تکلیف دہ چیز (کچرا، پتھر، کانٹا) ہٹانا، جو کہ شہری ذمہ داری اور صفائی کی ترغیب دیتا ہے ۔
    - عبادت کی طرف قدم: مسجد کی طرف نماز کے لیے چل کر جانا، جس کے ہر قدم پر صدقے کا اجر ملتا ہے ۔
  • ۳
    اسلامی معاشرہ، باہمی تعلّق اور اخلاق:
    • خدمتِ خلق بھی عبادت ہے: اسلام میں عبادت صرف مسجد تک محدود نہیں؛ لوگوں کی مدد، باہمی محبت، اور معاشرتی اصلاح بھی عبادات کا درجہ رکھتی ہیں ۔
    • اتحاد اور صلح کی اہمیت: اسلام افراد کے درمیان جھگڑوں کو ناپسند کرتا ہے اور صلح کرانے کو عظیم نیکی قرار دیتا ہے تاکہ معاشرے میں اتحاد قائم رہے ۔
    • تکبر کا خاتمہ: خدمتِ خلق اور عاجزی والے کام (مثلاً سامان اٹھوانا، راستہ صاف کرنا) انسان کے اندر تواضع پیدا کرتے ہیں اور تکبر کو ختم کرتے ہیں ۔
  • ۴
    روزمرہ زندگی کو عبادت بنانا:
    • نیت کی اہمیت: مسلمان اگر اپنے روزمرہ کے تمام معمولات اور اخلاقی افعال اللہ کی رضا کی نیت سے انجام دے، تو اس کی پوری زندگی عبادت اور صدقہ بن جاتی ہے ۔
    • کسی نیکی کو چھوٹا نہ سمجھیں: اخلاص کے ساتھ کی گئی چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی اللہ کے ہاں عظیم اجر رکھتی ہے، لہٰذا مسلمان کو ہر روز مسلسل نیک اعمال میں فعال رہنا چاہیے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-25

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 25

صدقہ کے وسیع مفاہیم، نیت کی برکت اور حلال امور پر اجر کا بیان

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالُوا لِلنَّبِيِّ ﷺ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ. فَقَالَ: «أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَدَّقُونَ؟ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ». قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ، أَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ»۔

(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ تو سارا اجر لے گئے، وہ ہماری طرح نماز بھی پڑھتے ہیں، ہماری طرح روزے بھی رکھتے ہیں، اور اپنے زائد مال سے صدقہ بھی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھی صدقہ کرنے کے ذرائع نہیں بنائے؟ بے شک ہر مرتبہ 'سبحان اللہ' کہنا صدقہ ہے، ہر مرتبہ 'اللہ اکبر' کہنا صدقہ ہے، ہر مرتبہ 'الحمد للہ' کہنا صدقہ ہے، ہر مرتبہ 'لا إله إلا الله' کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے جائز تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے“۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے اور اس پر بھی اسے اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اگر وہ اپنی شہوت حرام طریقے سے پوری کرتا تو کیا اس پر گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پورا کرتا ہے تو اس کے لیے اجر بھی ہے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    نیکیوں میں سبقت اور صحابہ کا مقام:
    • پاکیزہ مقابلہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقابلہ دنیاوی اشیاء کے لیے نہیں بلکہ نیکیوں اور آخرت کے درجات میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے تھا ۔
    • دلوں کی پاکیزگی: ان کے اندر حسد، بغض یا کینہ نہیں تھا؛ وہ اپنے مالدار بھائیوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے اور خیر کے کاموں میں ان کا شریک بننا چاہتے تھے ۔
    • شوقِ عبادت پر غم: نیکی کی استطاعت نہ ہونے پر صحابہ کا رنجیدہ ہونا ان کی اعلیٰ فکر اور بلند ہمت کی دلیل ہے ۔
  • ۲
    صدقہ کے وسیع مفاہیم اور متبادل راستے:
    • صدقہ صرف مال نہیں: ہر نیک کام، تسبیح، تحمید، تکبیر، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) صدقہ شمار ہوتا ہے ۔
    • خیر کے متعدد راستے: اگر انسان نیکی کے کسی ایک راستے (مثلاً مالی صدقے) سے محروم ہو، تو اسے مایوس ہونے کے بجائے دیگر عبادات کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔
  • ۳
    نیت کی برکت اور حلال کاموں پر اجر:
    • فطری و جائز کام عبادت ہیں: کھانا، پینا، سونا، حلال روزی کمانا اور اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارنا اگر جائز طریقے اور نیک نیت (عفت و پاکدامنی) سے ہو، تو ان پر بھی صدقہ کا ثواب ملتا ہے ۔
    • اللہ کا بے پایاں کرم: اللہ تعالیٰ نے مومن کو بڑی عزت دی ہے کہ اس کے روزمرہ کے فطری کاموں کو بھی ثواب کا ذریعہ بنا دیا ہے ۔
  • ۴
    استدلال، اخلاقیات اور تعلیم کا انداز:
    • حجتِ قیاس: اس حدیث سے "قیاسِ شرعی" کی حلمیت ثابت ہوتی ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے حرام پر گناہ کا ذکر کرکے حلال پر اجر کو واضح فرمایا ۔
    • عفت اور حیا بالفاظ: نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے نازک و جنسی امور کے بیان میں انتہائی مہذب اور کنائے والے الفاظ استعمال فرمائے، جو ان کی کامل حیا کی دلیل ہے ۔
    • معلمین اور علماء کی ذمہ داری: عالم اور داعی کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے لیے دین اور نیکی کا راستہ آسان بنائے، ان کی استطاعت کے مطابق خیر کے راستے دکھائے اور وقت کی حفاظت کا شعور بیدار کرے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-24

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 24

اللہ تعالیٰ کی بے نیازی، عدل، رحمت اور بندوں کی محتاجی کا بیان (حدیثِ قدسی)

عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهُ قَالَ: «يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضُرِّي فَتَضُرُّونِي، وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُونِي، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ وَاحِدٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِي، إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ»۔

(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، لہٰذا مجھ سے رزق مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو، سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے رہتے ہو، اور میں تمام گناہوں کو بخش دیتا ہوں، لہٰذا مجھ سے مغفرت مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم نہ مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو اور نہ نفع۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن سب کے سب ایک سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اگر سب کے سب سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن ایک میدان میں جمع ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر ایک کو اس کا مطلوب عطا کر دوں، تو میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈالنے سے ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں، میں انہیں شمار کر کے تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے، اور جو اس کے علاوہ کچھ پائے وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اللہ تعالیٰ کی عظمت، بے نیازی اور سخاوت:
    • کامل بے نیازی: اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے یکسر بے نیاز ہے۔ بندوں کی عبادات و طاعات اس کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں کرتیں اور نہ ان کی نافرمانیاں اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔
    • لامحدود خزانے: تمام انسان اور جنات مل کر بھی اپنی تمام تر خواہشات مانگ لیں اور اللہ سب کی حاجات پوری کر دے، تب بھی اس کے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آتی جتنی سمندر میں سوئی ڈوبو کر نکالنے سے پانی میں آتی ہے ۔
    • بے پایاں حلم اور فضل: بندے دن رات گناہ کرتے ہیں لیکن وہ فوراً سزا نہیں دیتا، بلکہ انتہائی شفقت و حلم کے ساتھ انہیں توبہ، ہدایت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے ۔
  • ۲
    ظلم کی حرمت اور کمالِ عدل:
    • ظلم کی ممانعت: اللہ تعالیٰ نے اپنے کمالِ عدل کی وجہ سے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کیا ہے اور اپنے بندوں کے درمیان بھی اسے قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے ۔
    • شرک و حق تلفی: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، غیر اللہ کو پکارنا اور مخلوق کے حقوق پامال کرنا ظلم کی سخت ترین صورتیں ہیں ۔
  • ۳
    بندے کی ہمہ وقت محتاجی:
    • دینی و دنیوی محتاجی: انسان ہدایت، رزق، لباس، مغفرت اور نفع و نقصان غرض ہر معاملے میں ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے ۔
    • رسول اللہ ﷺ کی بعثت: اللہ نے آپ ﷺ کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتاب نازل کر کے بندوں کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کا نور عطا فرمایا ۔
  • ۴
    ایمان، استغفار اور اعمالِ قلب:
    • ایمان کی بنیادیں: اس حدیث میں دین کے بنیادی قلبی اعمال جمع ہیں: محبت (اللہ کے فضل سے)، امید (اس کی مغفرت سے)، اور خوف (اس کے حساب و عدل سے) ۔
    • توبہ و استغفار: بندہ کتنے ہی گناہ کیوں نہ کر بیٹھے، اگر سچے دل سے استغفار کرے تو اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے ۔
    • اصل معیار (تقویٰ): انسانی اعمال اور کیفیت کی اصل بنیاد دل کا تقویٰ یا فجور ہے ۔
  • ۵
    اعمال کی جزا، سزا اور محاسبہ:
    • اعمال کی حفاظت: اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام اعمال (خواہ وہ انسان ہوں یا جنات) کو گن کر محفوظ رکھتا ہے ۔
    • توفیق و محاسبہ: ہدایت اور نیکی کی توفیق اللہ کا فضل ہے جس پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے، جبکہ گناہ اور برائی بندے کا اپنا فعل ہے جس پر اسے اپنے نفس کا محاسبہ اور استغفار کرنا چاہیے ۔
    • نجات کا ذریعہ: جنت میں دخول اور نجات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے ممکن ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-23

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 23

طہارت، اذکار، عبادات کی حقیقت اور اعمال کی تجارت کا بیان

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْحَارِثِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآنِ – أَوْ تَمْلَأُ – مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا»۔

(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت ابو مالک حارث بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پاکیزگی (طہارت) ایمان کا نصف ہے، اور 'الحمد للہ' میزان کو بھر دیتی ہے، جبکہ 'سبحان اللہ' اور 'الحمد للہ' دونوں آسمان و زمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے، اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح کرتا ہے، پھر کوئی اپنی جان کو (اللہ کی اطاعت کے ذریعے) بیچ کر آزاد کر لیتا ہے، اور کوئی (گناہوں کے ذریعے) اسے ہلاک کر دیتا ہے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    طہارت اور ایمان کی اہمیت:
    • وضو اور پاکیزگی: ظاہری طہارت (وضو و غسل) باطنی ایمان کا نصف اور اس کی تکمیلی بنیاد ہے ۔
    • اعمال اور ایمان: وضو کو ایمان کا حصہ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اعمالِ صالحہ ایمان کا لازمی جزو ہیں ۔
    • نماز کی حفاظت: وضو کی پابندی کرنے والا شخص اپنی نماز کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ وضو میں سستی نماز میں کاہلی کا سبب بنتی ہے ۔
  • ۲
    ذکرِ الہٰی کی فضیلت اور میزانِ اعمال:
    • الحمد للہ اور سبحان اللہ کا مقام: "الحمد للہ" کہنا تمام نعمات کے اعتراف اور کامل صفاتِ الہٰی کے اثبات کی وجہ سے سب سے افضل ذکر ہے، جو قیامت کے دن میزان کو بھر دے گا ۔
    • آسمان و زمین کی وسعت: "سبحان اللہ" اور "الحمد للہ" کا مشترکہ اجر زمین و آسمان کی درمیانی وسعت کے برابر ہے ۔
    • حقِ میزان: قیامت کے دن اعمال کے تولے جانے (میزان) کا حق ہونا ثابت ہوتا ہے ۔
  • ۳
    عبادات کی حقیقت اور ان کا اثر:
    • نماز – ہدایت و روشنی: نماز دنیا میں گناہوں سے بچاتی ہے اور آخرت میں مؤمن کے لیے نورِ ہدایت اور روشنی بنے گی ۔
    • صدقہ – ایمان کی دلیل: نفس کو مال سے محبت ہوتی ہے؛ لہٰذا اللہ کے لیے مال خرچ کرنا بندے کے خلوص اور سچے ایمان کی علامت (برہان) ہے ۔
    • صبر – ضیاء (روشنی و حرارت): صبر میں مشقت اور حرارت ضرور ہوتی ہے، مگر اس کا انجام کامیابی اور کشادگی ہے ۔ صبر کی تینوں قسمیں (اطاعت پر، گناہ سے بچنے پر، اور مصائب پر) تمام عبادات کی بنیاد ہیں ۔
  • ۴
    قرآنِ مجید اور بندے کا تعلق:
    • حجت یا دلیل: قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں؛ اگر اس پر عمل کیا جائے تو یہ نجات کی سفارش کرے گا، اور اگر اس کی حدود کو پامال کیا جائے تو یہ خلافِ گواہی دے گا ۔
  • ۵
    انسانی ارادہ، عمل اور آخرت کی تجارت:
    • روزمرہ کی سودے بازی: ہر انسان روزانہ اپنے اعمال سے آخرت کی تجارت کرتا ہے؛ یا تو وہ اپنی جان کو اللہ کی اطاعت میں بیچ کر جہنم سے آزاد کرواتا ہے، یا گناہوں کی غلامی میں ہلاک کر دیتا ہے ۔
    • انسان کا اختیار و ذمہ داری: انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ارادہ و اختیار دیا ہے کہ وہ محنت کر کے اپنی نجات کا راستہ چنے ۔
    • ترغیب و ترہیب: انسان کو کاہلی چھوڑ کر نیک اعمال کی طرف راغب ہونا چاہیے، کیونکہ حقیقی آزادی اور کامیابی اللہ کی اطاعت میں ہے ۔
    • خلاصۂ حدیث: یہ حدیثِ مبارکہ عقیدہ، عبادات، اخلاق اور اصلاحِ ظاہر و باطن کا مجموعہ ہے ۔ یہ انسان کو بتاتی ہے کہ ظاہری پاکیزگی سے لے کر باطنی اذکار، نماز، صدقہ، صبر اور اتباعِ قرآن ہی اس کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا حقیقی ذریعہ ہیں ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-22

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 22

فرائض کی پابندی اور حلال و حرام کی تمیز سے نجات کا بیان

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔

(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ”آپ مجھے بتائیے! اگر میں فرض نمازیں ادا کروں، رمضان کے روزے رکھوں، حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں، اور اس پر کوئی اضافہ نہ کروں، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    ایمان و عمل کا تعلق اور درجات:
    • ایمان میں کمی و بیشی: ایمان عمل سے بڑھتا اور گھٹتا ہے، اور تمام مسلمانوں کے ایمانی درجات ایک جیسے نہیں ہوتے ۔
    • اعمال ایمان کا حصہ ہیں: محض عقیدہ کافی نہیں بلکہ فرائض و واجبات کی ادائیگی اور عملِ صالح ہی نجات کا ذریعہ ہے ۔
  • ۲
    شریعت کا بنیادی معیار (حسبِ استطاعت نجات):
    • فرائض مقدم ہیں: دین میں اصل بنیاد فرائض کی حفاظت اور حرام سے بچنا ہے ۔ جو اس پر ثابت قدم رہے، وہ کامیابی کے راستے پر ہے ۔
    • نوافل کی اہمیت: صرف فرائض پر اکتفا کرنا جائز ہے، لیکن بلند ہمت لوگ نوافل اختیار کر کے مزید قرب حاصل کرتے ہیں ۔
  • ۳
    حلال و حرام کا اختیار:
    • حاکمِ مطلق صرف اللہ ہے: حلال و حرام کا تعین اللہ کے اختیار میں ہے ۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے اور اپنی خواہشات کو معیار نہ بنائے ۔
  • ۴
    تربیت اور دعوت میں آسان انداز:
    • دین میں اعتدال و آسانی: شریعت میں مشقت یا رہبانیت (دنیا سے کٹ جانا) نہیں، بلکہ یہ اعتدال کی تعلیم دیتی ہے ۔
    • مخاطب کے حال کی مراعات: داعی اور عالم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حالات اور ایمانی سطح کا لحاظ رکھتے ہوئے آسان اور واضح رہنمائی کرے ۔
  • ۵
    علم و حکمتِ سوال:
    • علماء کے پاس بیٹھنے کا فائدہ: طالبِ علم کو علماء کے سوال و جواب پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں دین کے کثیر فوائد ہوتے ہیں ۔
    • صحابہ کی فکرِ آخرت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سوالات کا محور دنیاوی مفاد نہیں بلکہ آخرت اور جنت کا حصول ہوتا تھا ۔
    • خلاصہ: حقیقی کامیابی فرائض کی پابندی، حلال و حرام کی تمیز، اخلاصِ نیت اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرنے میں ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-21

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 21

ایمان اور اس پر استقامت کا بیان

عَنْ أَبِي عَمْرٍو – وَقِيلَ: أَبِي عَمْرَةَ – سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ. قَالَ: «قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ»۔

(رواه مسلم)

ترجمہ:

حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتا دیجیے کہ پھر اس کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    سوال کرنے کا ادب اور علمی اہمیت:
    • علم کا حصول: طالب علم کو چاہیے کہ شرم محسوس کیے بغیر مختصر اور جامع سوال پوچھے تاکہ کم وقت میں زیادہ فائدے حاصل ہو سکیں ۔
    • ذہانت کا مظاہرہ: موقع کی مناسبت سے ایسا سوال منتخب کرنا چاہیے جو دین کا احاطہ کرے ۔
  • ۲
    نبی ﷺ کی تعلیم کا اسلوب:
    • جوامع الکلم: یہ حدیث آپ ﷺ کے معجزانہ کلام میں سے ہے، جس میں لمبی نصیحت کی بجائے چند الفاظ میں پورے دین کو سمو دیا گیا ہے ۔
  • ۳
    ایمان کی حقیقت (عقیدہ و عمل):
    • ایمان کے ارکان: ایمان صرف زبان یا دعوے کا نام نہیں، بلکہ اس میں زبان کا اقرار، دل کا اعتقاد اور اعضا کا عمل شامل ہیں ۔
    • توحید اور عمل کا تعلق: صحیح عقیدے («آمنت بالله») کے بغیر عمل میں استقامت («ثم استقم») ممکن نہیں، اور عمل کے بغیر محض دعویٰ بے سود ہے ۔
  • ۴
    استقامت کا مفہوم اور تقاضے:
    • جامعیت: استقامت کا مطلب صرف عبادات کی پابندی نہیں بلکہ عقیدے، عبادات، اخلاق اور معاملات میں سیدھی راہ پر قائم رہنا ہے ۔
    • جہادِ نفس: استقامت میں محنت، صبر اور نفس سے جہاد شامل ہے؛ یہ کسی عارضی جوش کا نہیں بلکہ مستقل بندگی کا نام ہے ۔
    • انحراف سے پاک: دین پر بغیر کسی کجی یا بدعت کے قائم رہنا اور خوشی و غم دونوں حالتوں میں اللہ کے حکم پر چلنا ۔
  • ۵
    استقامت حاصل کرنے کے ذرائع:
    • بنیادی اسباب: اخلاصِ نیت، دل کی اصلاح، صحیح علم، اور صالحین کی صحبت ۔
    • لغزشوں کا علاج: چونکہ کامل استقامت میں کمی رہ جاتی ہے، اس لیے استغفار اور توبہ اس کمی کو پورا کر کے بندے کو دوبارہ درست راستے پر لاتے ہیں ۔
  • ۶
    استقامت کے ثمرات و نتائج:
    • کامیابی کا ذریعہ: استقامت فتنوں کے دور میں حق پر قائم رکھتی ہے، شیطان کے وار سے بچاتی ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابی و جنت کی بشارت کا باعث بنتی ہے ۔
    • حاصلِ کلام: یہ حدیث دین کے دو عظیم ستونوں کو جمع کرتی ہے: صحیح ایمان اور اس پر دائمی ثابت قدمی ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-20

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 20

حیا کی اہمیت اور اس کے معاشرتی اثرات کا بیان

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»۔

(رواه البخاري)

ترجمہ:

حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک لوگوں نے پہلی نبوتوں کے کلام میں سے جو بات پائی ہے وہ یہ ہے کہ: جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو“۔ [صحیح بخاری]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    انبیاء کی مشترکہ اور تاریخی تعلیم:
    • قدیم اخلاقی سبق: حیا تمام انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات کا بنیادی حصہ رہی ہے جو نسل در نسل اس امت تک پہنچی۔
    • یکساں اخلاقی اصول: تمام انبیاء کا بنیادی اخلاقی پیغام اور مقصد ایک ہی رہا ہے۔
  • ۲
    حیا کی حقیقت اور مقام:
    • ایمان کی شاخ: حیا ایمان کا ایک اہم حصہ ہے، جو دل کی زندگی اور ایمانی قوت کی علامت ہے۔
    • اللہ کی پسندیدہ صفت: اللہ تعالیٰ حیا کو پسند فرماتا ہے اور حیا دار لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔
    • شریعت سے ہم آہنگی: حقیقی حیا انسان کو اللہ کی اطاعت پر ابھارتی ہے۔ شرعی احکام، علم حاصل کرنے یا سچ بولنے میں شرم محسوس کرنا حیا نہیں ہے۔
  • ۳
    کردار اور عمل پر اثرات:
    • برائیوں سے بچاؤ: حیا انسان کو گناہوں، بے ہودہ کاموں اور بے وقاری سے روکتی ہے۔
    • اللہ کی نگرانی کا احساس: حیا انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی موجودگی اور نگرانی کا احساس دلاتی ہے۔ معرفت بڑھنے سے حیا میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
  • ۴
    بے حیائی کے نقصانات اور حدیث کی تنبیہ:
    • گناہوں کا راستہ: حیا ختم ہو جائے تو انسان کھل کر برائیاں اور حقوق العباد کی پامالی کرنے لگتا ہے۔
    • سخت تنبیہ: حدیث کا جملہ "جو چاہے کرو" دراصل ایک تنبیہ اور خبر ہے کہ بغیر حیا کے انسان حد سے گزر جاتا ہے اور پھر اسے اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا۔
  • ۵
    فرد اور معاشرے پر اثرات:
    • پاکیزہ معاشرہ: حیا مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری ہے اور معاشرے میں عفت، پاکیزگی اور امن قائم کرتی ہے۔
    • تربیت کا عنصر: بچوں میں حیا کی صفت پیدا کرنا والدین اور اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
    • خلاصہ: حیا ایمان کی محافظ اور حسنِ اخلاق کی بنیاد ہے۔ یہ انسان کو اللہ اور مخلوق کے حقوق ادا کرنے اور ہر قسم کی برائی سے بچنے کی توفیق دیتی ہے۔